15 ستمبر 2012 - 19:30

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر میجرجنرل محمد علی جعفری نے کہا ہے کہ غاصب صہیونی ریاست، اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی عزّت و اقتدار اور اسی طرح دنیا خاصطور سے علاقے میں اسلامی بیداری کے فروغ نے غاصب صہیونی حکام کی نیندیں اڑا دی ہیں ۔

ابنا: انھوں نے آج ملکی و غیر ملکی نامہ نگاروں سے گفتگو میں خاصطور سے غاصب صہیونی ریاست کی دھمکیوں کے مقابلے میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی آمادگی کے بارے میں فرانس پریس کے نامہ نگار کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران پر فوجی حملے سے نہ صرف یہ کہ دشمنوں کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوگی  بلکہ انھیں سخت ہزیمت بھی اٹھانا پڑیگی جیساکہ بیشتر ماہرین اور بعض صہیونی حکام بھی ایران کے خلاف اس قسم کی دھمکیاں دیئے جانے کے خلاف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کی دھمکیاں، صرف نفسیاتی جنگ کے مترادف ہیں ۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر میجرجنرل محمد علی جعفری نے اس ناقابل انکار اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ دشمنوں کی کسی بھی طرح کی ممکنہ جارحیت کے مقابلے میں ایران کی مسّلح افواج، غیر معمولی اورمستحکم دفاعی توانائی کی حامل ہیں کہا کہ امریکہ و اسرائیل، ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا ارتکاب کرنے کی جرآت نہیں کرسکتے اسلئے کہ تمام مقبوضہ علاقے اور علاقے میں تمام امریکی فوجی اور ان کے اّڈے ایرانی میزائیلوں کی زد میں ہیں ۔ میجرجنرل محمد علی جعفری نے امریکہ و اسرائیل سے لاحق خطرات کے مقابلے میں ایران کے دفاعی اقدامات کے سلسلے میں لبنان کے المنار ٹیلیویزن چینل کے نامہ نگار کے سوال کے جواب میں کہا کہ کسی بھی قسم کی جنگ کے شعبے میں ایران کی مسلمہ دفاعی توانائی اور اسی طرح کسی بھی طرح کی جارحیت کے بھیانک نتائیج نیز پوری دنیا کے مسلمانوں کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلاب کی حمایت کے پیش نظر تہران کو کسی بھی طرح کے پیشگی اور احتیاطی اقدام کی ضرورت نہیں ہے اسلئے کہ دشمن، ایران کے فوری منھہ توڑ دفاعی اقدام کی توانائی سے مکمل باخبر ہیں اور یہ خود، ایک طرح کا دفاعی عمل ہے ۔ انھوں نے ایران کی میزائیلی توانائیوں اور جدید فوجی سازوسامان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی مسّلح افواج،مختلف قسم کے میزائیلوں اور جدید ٹیکنالوجی کے حامل ڈرون طیاروں سے لیس ہیں جو ہر طرح کی جارحیت کا دنداں شکن جواب دینے اور اپنے دشمنوں کو ٹھکانے لگانے نیز انھیں اپنے کئے پر پچھتاوے پر مجبور کرنے کی بھرپور توانائی رکھتی ہیں ۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈرجنرل نے خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ اور 25 دیگر ملکوں کی فوجی مشقوں کے بارے میں بھی کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی یہ فوجی مشقیں، جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی ہیں جو نمائشی نوعیت کی حامل ہیں تاکہ مقابلہ کرنے کی اپنی آمادگی کا دکھاوا کرسکیں ۔ میجرجنرل محمد علی جعفری نے کہا کہ علاقے میں اگر کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو وہ یقینا علاقے اور خاصطور سے آبنائے ہرمز میں امن و سلامتی برقرار نہیں کرسکتے اسلئے کہ آبنائے ہرمز کے علاقے میں امن و سلامتی کا دارومدار پورے علاقے میں امن و امان کی فضا پر ہے اور یہ کہ علاقے میں غیر ملکی فوجی، تعداد میں جتنے زیادہ کم ہوں گے خلیج فارس اور خاصطور سے  آبنائے ہرمز کے علاقے میں امن و سلامتی کی امید، اتنی ہی زیادہ بندھی رہیگی ۔ انھوں نے جوہری مسئلے میں ایران پر مغرب کے دباؤ کے بارے میں بھی کہا کہ یورپی ممالک، امریکہ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور اگر ان پر امریکی دباؤ نہ ہو تو وہ منطقی راستہ اختیار کرسکتے ہیں البتہ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں پرامن ہیں یہانتکہ امریکی بھی اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ تہران، ایٹمی ہتھیاروں کے درپے نہیں ہے ۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈرجنرل نے کہا کہ یورپ و امریکہ، ایران کے اہداف و مقاصد کی بناء پر تہران پر دباؤ ڈال رہے ہیں اسلئے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایران، اسلامی انقلاب کو آگے بڑھا رہا ہے اور امریکہ کے سیاسی مقاصد اور اس کی تسلط پسندی کی مخالفت کررہا ہے اور چونکہ وہ ایران کے اس عمل کے خلاف ہے اسلئے تہران پر دباؤ ڈالنے کیلئے وہ جوہری مسئلے کو صرف ایک بہانہ بنا رہا ہے ۔  انھوں نے کہا کہ یورپ و امریکہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ایران، جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں جتنی زیادہ پیشرفت کریگا ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر ہی تمام سائنسی امور اور نئی توانائی کے شعبے میں اتنی ہی زیادہ دسترسی پیدا کرلے گا اور ایران کی یہ توانائی، ان کے کیلئے ناقابل برداشت بنی ہوئی ہے ۔ میجرجنرل محمد علی جعفری نے اسی طرح شام کے اقتدار اعلی سے بشار اسد کی برطرفی کے بارے میں مغرب کے دباؤ کے حوالے سے بھی کہا کہ بشار اسد، علاقے میں اسرائیل اور امریکی مقاصد کے خلاف قائم محاذ کی ایک کمان سنبھالے ہوئے ہیں اور ان چند عرب رہنماؤں میں سے ہیں کہ جنھوں نے صہیونی ریاست سے کبھی کوئی سودا یا سمجھوتہ نہیں کیا ہے اور اس سلسلے میں اپنے موقف پر وہ ڈٹے بھی ہوئے ہیں اسلئے ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے تاکہ وہ، علاقے میں امریکہ و اسرائیل کی توسیع پسندی کے مقابلے میں مزاحمت سے دستبردار ہوجائیں ۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈرجنرل نے شامی فوج کی توانائی اور اس فوج کو حاصل عوامی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام، کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت کے مقابلے میں مکمل استقامت کا مظاہرہ کرنے کی بھرپورتوانائی رکھتا ہے اور یہ کہ شام کے خلاف جاری دباؤ۔ دھمکیاں سرانجام امریکہ و اسرائیل کے نقصان پر منتہی ہوں گی ۔...../169